تُو زُلف زُلف تھی مگر کھلی نہیں

تُو زُلف زُلف تھی مگر کھلی نہیں
تُو شام شام تھی کبھی ڈھلی نہیں
اَبھی نہ جا کہ آنکھ برف برف ہے
اَبھی تو میں نے دل کی بھی کہی نہیں
چلو گلے ملیں بڑے تپاک سے
بھلے ہمیں کوئی طلب رہی نہیں
صدف کے نیم وا لبوں کو چوم کر
کہو وہی جو آج تک سنی نہیں
دراڑ سی بدن میں ہے ، یہ کیا ہوا؟
اَبھی مِری نگاہ تو اُٹھی نہیں
سبوئے فکر میں خمارِ آبرو
فریب ہے ، شعورِ آگہی نہیں
تلاش ہجرتوں کو ہے کہ تُو اَبھی
عنایتیں سمیٹ کر گئی نہیں
میں چومتا رہا ہوں کاغذی بدن
اِسی لیے تو آگ بھی بجھی نہیں
یہ آرزُو ، یہ انتظار ؟ واہمے
یہ زندگی تو چار دن کی بھی نہیں
ناصر ملک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے