تمثیل

کسی اِک وار پر جیسے وفا کی مات ٹھہری ہو
کوئی دیوانگی جیسے لبِ جذبات ٹھہری ہو
کسی اُلجھے ہوئے نکتے پہ آ کے بات ٹھہری ہو
کسی تاریک لمحے پر گریزاں رات ٹھہری ہو
کہ یوں خاموش سی خواہش مرے ہونٹوں پر ٹھہری ہے
ناصر ملک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے