بسکٹ،دودھ اور موٹر وے

بسکٹ،دودھ اور موٹر وے
شاہینہ شاہین بلوچ کا کوئی بھائی نہیں تھا۔وہ پانچ بہنیں ہی تھیں ورنہ وہ اسے گھر میں ہی بتا دیتا کہ فائن آرٹس میں ایم اے نہ کر واور اگر وہ پھر بھی کر رہی تھی تو اتنی حوصلہ شکنی کرتا کہ وہ کم از کم گولڈ میڈل تو نہ لیتی۔۔ گولڈ میڈل لے لیا تو تصویروں کی نمائش میں اپنی تصویریں نہ رکھ پاتی او ر پھر اس سے بھی بڑھ کر پی ٹی وی کے مارننگ شو کی ہو سٹ کبھی نہ بنتی۔ اور اگر وہ یہ سب کسی بھائی کی موجودگی میں کر بھی پاتی تو باغی کہلائی جاتی۔ لیکن اس کی خوش قسمتی یا بدقسمتی کہ اس کی ماں اور بہنیں ہی تھیں جو اس کے ساتھ تھیں لہذا اس نے ان کی تصویر پینٹ کی اور آگے خار دار تاریں لگا کر وہ، جذباتی طور پر قید تمام عورتوں کو یہ پیغام دیا کہ مشکلیں تو ہیں مگر ان سے ٹکرا کر آگے بڑھنے کا نام ہی زندگی ہے۔ مصائب سے گھبرا کر شکست تسلیم کر نا موت ہے اور پھر اس جرم میں اسے سچ مچ کی موت دے دی گئی۔ شاہینہ بلوچ جو کہ ایک صحافی، سوشل ورکر اور آرٹسٹ تھی اسے قتل کر دیا گیا۔ میرے نزدیک وہ ایک شہید ہے جس کی جان ایک جنگ لڑتے ہو ئے گئی اور وہ جنگ تھی عورتوں کی ذہنی آزادی کی جنگ۔کاش شاہینہ کا کوئی بھائی ہو تا جو اسے پہلے سے ہی قید کر دیتا تو وہ آج زندہ ہو تی کیونکہ ہمارے سی سی پی او لاہور عمر شیخ اس واقعہ پر بیان دیتے تو یہی کہتے۔۔
اسی تسلسل میں دیکھیں تو نظر آتا ہے کہ کر اچی کی ننھی منی پانچ سالہ ماروا، بسکٹ لینے دکان تک نہ جاتی تو ریپ نہ ہو تی، اور شائید وہ ہنستی مسکراتی جا رہی تھی اور اس کا فراک بھی یقینیناگھٹنوں سے اوپر ہو گا اور سر کے بال بھی کھلے ہو نگے اور ترغیب دے رہے ہو نگے توکوئی بھی للچا سکتا تھا اور اس موقع سے فائدہ اٹھا کر اس بچی کو ہنسنے کھیلنے اور چھوٹے چھوٹے کپڑے پہننے کے جرم میں ہوس کا نشانہ بنا کر، جلا نا، کسی بھی مشرقی غیور مرد کا پہلا حق ہو سکتا ہے سو اس نے وہی حق استعمال کیا۔
انڈیا کے دارلحکومت دلی میں ایک 86سالہ عورت کو ایک تیس سال کا لڑکا ریپ کر دیتا ہے۔جو زیادتی کے دوران چیخ چیخ کر منت سماجت کر تے ہو ئے اس درندے کو بتاتی رہیں کہ میں دادی ہوں،تم میرے پو تے کی عمر کے ہو گے۔ تفصیل کے مطابق یہ خاتون، گھر کے باہر دودھ والے کا انتطار کر رہی تھیں۔وہاں ایک درندہ آ پہنچا اور اس نے کہا آج گوالا نہیں آئے گا، آئیں میں آپ کو وہاں لے جاؤں جہاں سے آپ کو دودھ ملے گا اور بوڑھی عورت جو اپنی طرف سے اپنی تمام عمر گزار چکی تھیں اس کے ساتھ اعتماد سے چل پڑیں اور وہ انہیں ایک ویرانے میں لے گیا اور پھر۔۔۔
اس بوڑھی عورت کے پاس، اس تیس سال کے مرد کو للچانے کے لئے کیا بچا ہو گا؟ عمر شیخ صاحب اس پر بیان دیتے تو کیا کہتے؟ وہ بوڑھی عورت کیا کر تی یا کیا نہ کر تی تو بچ پاتی؟
موٹر وے پر ہونے والے گینگ ریپ پر عمر شیخ کا بیان، ایک سی سی پی او کا بیان نہیں ہے بلکہ یہ بیان برصغیر کے پو رے معاشرے کی عکاسی کرتا ہے۔ اور میں نے عمر شیخ کا نام لے کر جو کچھ اوپر لکھا ہے، وہ طنز نہیں ہے، وہ حقیقت ہے۔عمر شیخ نے وہی کہا جو یہ معاشرہ کہتا ہے۔ اس میں پلنے والی عورتوں کے کندھوں پر اپنی عزت بچانے کی ذمہ داری تو ہو تی ہی ہے مگر” پاؤں کی اس جوتی” کے سر پر پورے خاندان کی عزت کا بوجھ بھی ہو تا ہے۔ ایک پانچ سال کی بچی کا ریپ ہو یا ایک ۶۸ سالہ بڑھیا کا۔۔قصور اس کا ہی نکلتا ہے۔
عمر شیخ کا بیان، حقیقت میں برصغیر کی پو ری نفسیات کا آئینہ دار ہے۔ اس پر سیخ پا ہونے سے پہلے گور تو کریں ہم کیسے معاشرے میں رہ رہے ہیں؟ جہاں مائیں خود بیٹوں کو بیٹیوں کو مارنے پیٹنے کی ترغیب دیتی ہیں۔
آزادی حقوق ِ نسواں میں ہم سے کئی سال آگے مغربی ممالک بھی آج تک اس بحث میں الجھے ہو ئے ہیں کہ ریپ کیسز میں عورتوں کے اشتعال انگیز کپڑے یا اداؤں کا کتنا حصہ ہو تا ہے؟ اس پر بحث کی گنجائش ہو گی مگر بوڑھی عورتوں اور معصوم بچوں کا ریپ، ذہنی مر ض کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔
انسان جب جنگل میں جا تا ہے تو یا تو ذہنی طور پر تیا ر رہے کہ درندے اسے چیر پھاڑ دیں گے اور یا اپنے دفاع کا مکمل انتظام کر کے جائیں۔ مچھروں سے بچاؤ کے لئے بھی پورے کپڑے اور ریپلینٹس لگائے جاتے ہیں یہ تو انسان ہیں جس کے اندر کا درندہ بھی دماغ ہو نے کی وجہ سے اشرف المخلوقات ہی ہو گا۔جب تک ان درندوں کو مکمل طور پر ٹرینڈ(تعلیم و تربیت کے ذریعے باشعور بنانا) نہیں کر لیا جاتا، یا مار نہیں دیا جا تا، یا سلاخوں کے پیچھے، نشان ِ عبرت بنا کر بٹھا نہیں دیا جاتا۔ عورتیں اپنا اور اپنے بچوں کا دفاع ایسے ہی کریں جیسے جنگل میں وحشی درندوں کے درمیان ہیں۔جہاں چیر پھاڑ کر نے والے درندے سے لے کر خون چوسنے، کان میں بھنبھانے والے مچھر تک سب دندناتے پھر رہے ہیں۔۔
انسانی حقوق یا عورتوں کے حقوق کی تنظیموں کو یہ بات سمجھنا ہو گی کہ کسی ایک واقعے پر چند دن الٹا سیدھا شور مچا دینے سے یا مظلوم کے کیس کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کر کے وہ مظلوم کا بھلا نہیں کر رہے بلکہ ظالموں کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔آزادی آزادی کا نعرہ ٹھیک سہی مگر اس سے پہلے کر نے کو بہت کچھ ہے۔ معاشرے میں اجتماعی شعور نہ آیا تو اس طرح کے خالی شور شرابے سے یہ واقعات کم نہیں بلکہ اورزیادہ ہو نگے۔ دونوں طرف کے شدت پسندوں کے ناجائز پر وپگنڈے سے معصوم بچیاں اور کمزور عورتیں ماری جارہی ہیں اور ایسا ہی وہ تا رہا تو اور ماری جا ئیں گی۔۔ عورت کی ذہنی آزادی اور مرد کی سوچ کو بدلنے کے لئے،ماچس کی ضرورت نہیں جو، ان نام نہاد عورتوں کے حقوق کی آواز اٹھانے والے عناصر اٹھائے پھرتے ہیں،اور جو آگ بجھانے کا نہیں بھڑکانے کا سامان ہے۔
ہمیں اس وقت ایسے معتدل اورمتوازن فکری لیڈروں کی ضرورت ہے جو مرد کو عورت کی صحیح معنوں میں عزت کر نا سکھائے،نہ کہ اس طرح کی فضا بنا دی جائے کہ ایک ٹولہ لنڈے کے مولوی خلیل قمر جیسے انتہا پسندوں کے ساتھ کھڑا ہو کر عورت کی تذلیل کر نی شروع کر دے اور دوسرا ٹولہ موم بتی گروپ کے ساتھ کھڑا ہو کر آگ پھیلانے لگے او ر پھر دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے لایعنی نعروں سے اتنا غبار اڑائیں کہ اصل مدعا ہی کہیں دب کر رہ جائے۔
باقی رہی بات کہ خود کو جنسی مریضوں (درندوں) سے بچابچا کر چلنے کی ضرورت ہے تو اس میں کسی کے انسانی یا نسوانی حقوق پر کوئی ضرب نہیں پڑتی۔ دو چیزوں کو مکس نہ کریں۔۔ ایک طرف عورت کی فکری اور ذہنی آزادی ہے،اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہو نا چاہیئے، ہم سب کو اس پر متفق ہو نا چاہیئے۔ دوسری طرف صدیوں سے بنی ہو ئی معاشرے کی سوچ ہے،اندر تک اتری ہو ئی غلاظت ہے۔۔ اسے صاف کر نے کے لئے وقت درکا ر ہے اور اس کو صاف کر نے کے لئے ہاتھوں میں گلوز چڑھانے اور منہ پر ماسک پہننا ضروری ہے۔ کیونکہ اگر ہم خود لتھڑ گئے تو معاشرے کی صفائی کون کرے گا۔۔ آگ بجھانے والا عملہ جب آگ بجھانے آتا ہے تو خود کو محفوظ کرنے والی تمام تدابیر کے ساتھ آتا ہے۔ کم عقلی سے اگر وہ آگ میں کود جائیں گے تو پہلے سے جلنے والوں کو بچانا تو دور کی بات ہے خود بھی اس میں جھلس جائیں گے۔ اور پھر یہ کہتے اچھے نہیں لگیں گے کہ آگ نے ہم کو جلا دیا۔۔
ریپ کر نے والوں کو عبرت کا نشان نہ بنایا گیا تو ایسی خبریں ذہنی مریضوں کو اکساتی رہیں گی، انہیں ایسے فعل کرنے سے باز نہیں رکھیں گی۔یہ ہے حکومتی ذمہ داری اور اگر وہ اس کو نبھا نہیں سکتی تو انہیں اپنے عہدوں کو چھوڑ دینا چاہیئے۔مگر اس سے بھی پہلے والدین کو اپنے بیٹوں کی تربیت میں یہ چیز شامل کر نے کی ضرورت ہے کہ بیٹیوں کی عزت کرنا ان کا کام ہے نہ کہ بیٹیوں کو اپنی عزت کروانے کے لئے سو طرح کی نوٹنکی کر نے کی ضرورت ہے۔ لڑکوں کی گھر وں اور سکولوں سے یہ ٹریننگ ہونے کی ضرورت ہے۔ ایک ماں اور ایک استاد کو لڑکے لڑکی کے درمیان امتیازی سلوک کو ختم کر نا ہو گا۔۔ لڑکوں کو لڑکیوں کی ان کی فکری آزادی کے ساتھ عزت کرنا سکھانا ہو گی۔ یہ نہیں کہ لڑکیاں سر جھکا کر اپنا آپ مار کر خوش کر تی رہیں تو سب راضی جہاں اس نے اپنے لئے جینے کی بتا کی وہیں اسے مطعون ٹھہرا دیا گیا۔
اور ایسے میں پھر جو بغاوت کر تی ہیں وہ اس قدر کر جاتی ہیں کہ راستے میں جو بھی آئے اسے کچل کر آگے بڑھنے کو وہ آزادی سمجھ لیتی ہیں۔۔۔
متوازن گھر، متوازن معاشرے بناتے ہیں۔آئیے چھوٹا قدم اٹھاتے ہیں۔ اپنے گھروں کو متوازن بناتے ہیں جہاں لڑکیوں کو لڑکوں کی طرح ہی سوچنے کی اجازت دی جائے، اعتماد دیا جائے اور محبت و عزت دی جائے۔ معاشرہ خود بخود ٹھیک ہو تا جائے گا۔ یہ کام ہمارے ہاتھ میں ہے یہ تو ہم کر سکتے ہیں؟ باقی حکمرانوں کو جتنی گالیاں دینی ہیں دیں مگر یہ کام تو شروع کر یں۔ورنہ بسکٹ کھاتی بچی، دودھ لینے کے لئے گوالے کا انتظار کرتی بڑھیا یا موٹر وے پر جاتی تنہا خاتون سب کی سب ننگی دھوپ میں کھڑی رہیں گی۔
روبینہ فیصل

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے