اختیار

میں نے دریا سے سمٹنے کی ادا سیکھی ہے
اپنی آنکھوں میں چھپا لو یا بہا دو مجھ کو
میں نے مہتاب سے مانگی ہیں درخشاں کرنیں
اپنے ہونٹوں کے جزیروں پہ سجا دو مجھ کو
میں سرکتے ہوئے ٹیلے پہ کھڑا ہوں اَب بھی
تیز جھونکے کی طرح آ کے اُڑا دو مجھ کو
کچی پنسل سے مجھے وقت نے لکھا ہے ہوا پر
تم میرا غم نہ کرو، آؤ، مٹا دو مجھ کو
میرے کشکول سے پھوٹے گا تعفن صدیوں
تم بہادر ہو تو مٹی میں دبا دو مجھ کو
ناصر ملک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے