UrduGallery

Nazir Qaiser reads his own poetry - Fursat-e-Khaab Khaab se kam hai

20 views

0   0

نذیر قیصر بزبان خود
"فرصت خواب خواب سے کم ہے

فرصت خواب خواب سے کم ہے
پیاس ہے اور شراب سے کم ہے

جتنی مجھ سے تمہیں محبت ہے
زندگی اس حساب سے کم ہے

میرے ہونٹوں سے تیرے شعلے تک
فاصلہ آفتاب سے کم ہے

اس میں ساری کتاب شامل ہے
اک ورق جو کتاب سے کم ہے

ایک صورت کہ جو حجاب میں تھی
آئینے میں حجاب سے کم ہے

خواب ٹوٹا تو جاگ جاوں گا
نیند آنکھوں میں خواب سے کم ہے

تو میرا انتخاب ہے لیکن
تو میرے انتخاب سے کم ہے

خلد ہو یا تیرا جہنم ہو
میرے جرم و ثواب سے کم ہے

شہر ویران ہے مگر قیصر
دل خانہ خراب سے کم ہے

فرصت خواب خواب سے کم ہے
پیاس ہے اور شراب سے کم ہے
View More
Pakistani Matrimonial
Comments